بغداد،6؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی پر الزام ہے کہ وہ موجودہ وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر مسلسل مہم چلا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عراق کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں نوری المالکی کی حکومت کے خلاف سازشوں پر بحث بھی جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ داعش اور کرپشن کے خلاف موثر جنگ لڑنے والے حیدر العبادی کو المالکی اور اس کے حامیوں کی طرف سے خطرات لاحق ہیں، مگر خود المالکی کی اپنی جماعت دولۃ القانون کے زیرک اور سرکردہ افراد کے پارٹی چھوڑ جانے کے بعد المالکی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
عراق کے قومی اتحاد کے ایک ذمہ دار ذریعے کا کہنا ہے کہ نوری المالکی نے اپنے حامیوں کو پیش آئند مرحلے میں سیاسی اور حکومتی عہدوں کے وعدے کیے تھے مگر اب وہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ان پر کرپشن کے الزامات نے عوامی حمایت بھی کافی کم کردی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ غالب امکان یہ ہے کہ پیش آئند مرحلے میں نوری المالکی قومی اتحاد کی قیادت سے باہر ہوجائیں۔ وہ نئی اتحادی تلاش کررہے ہیں تاکہ ملک کے سیاسی نظام میں اپنا موثر کردار ادا کرنے، طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش کرسکیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حیدر العبادی، مقتدیٰ الصدر، ایاد علاوی اور عمار الحکیم مل کر ایک نیا اتحاد تشکیل دیں۔ یہ اتحاد نوری المالکی کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دیا جاسکتا ہے۔